آپ جو امن و اخوّت کے پیمبر ٹھہرے

Ghazal : Aap jo aman

آپ جو امن و اخوّت کے پیمبر ٹھہرے

کس کو قاتل کہیں پھر کون ستمگر
ٹھہرے

کور چشموں کو حقیقت بھی نظر آئے
صراب

چشم بینا کو تو قطرہ بھی سمندر
ٹھہرے

میں نے پھولوں سے عقیدت کے سجایا
تھا اسے

تم مری یاد کے آنگن میں نہ پل بھر
ٹھہرے

ہم نے جس آنکھ کو بخشا تھا بصیرت
کا شعور

 ہم اسی آنکھ میں چبھتے ہوئے کنکر ٹھہرے

تم پہ جذبوں کی حرارت کا اثر ہو کیوں
کر

 تم جو احساس کی دہلیزکے پتھرٹھہر ے

کسی طرح عیش کا ماحول ہمیں راس آئے

فطر تاًہم جو غم و درد کے خوگر
ٹھہرے

راستوں کے کبھی پتھر جو کہے جاتے
تھے

منزلِ وقت کے راہیؔ وہی رہبر ٹھہرے

 

Leave a comment