اب بنا مکر وریا کی وہاں ڈالی جائے

Ghazal : Rasme ikhlas jahan bhi ho utha li jaye

اب بنا مکر وریا کی وہاں ڈالی جائے

 رسم اخلاص جہاں بھی ہو اٹھالی جائے

کس کا دکھ بانٹئے کس کس کو سہارا دیجے

سب دکھی ہیں یہاں کس کس کی دعالی
جائے

پھر کیا جائے روایات جنوں کو زندہ

 خاک پھر دشت و بیاباں کی اڑالی جائے

پھر جو لٹتی ہے تو لٹ جائے متاعِ
ہستی

 یہ جو اخلاص کی پونجی ہے بچالی جائے

دکھ کے صحراؤں پہ برسا کے عزائم کی
گھٹا

فصل ایک عیش و مسرت کی اگائی جائے

اک بصیرت کے سوا پاس ہمارےکیا ہے

تہمت بے بصری کیسے اٹھالی جائے

کون جذبوں کا ہے مفہوم سمجھنے والا

ناشناسوں سے کہاں داد و فالی جائے

Leave a comment