اب نظر آتے ہیں اشجار وہ خاروں والے

اب نظر آتے ہیں اشجار وہ خاروں
والے

تھے مرے سامنے منظر جو چناروں والے

بات اقدار وفا کی جو کہیں چھڑتی ہے

یاد آتے ہیں بہت لوگ مزاروں والے

لے اڑیں درد کی بے سمت ہوا ئیں ان
کو

 وہ جو موسم تھے مسرت کی پھواروں والے

غنچہ وگل کی لطافت تھی بحث کا
عنواں

 لفظ تھے آگ کے لہجے تھے شراروں والے

اب تو میلوں ہمیں سایوں کو ترسنا
ہو گا

 پیٹر سب سوکھ گئے راہگزاروں والے

ان کو بھی وقت نے مفلوج بنا رکھا
ہے

 تھے جو کچھ ہاتھ زمانے میں سہاروں والے

دل میں ہلچل سی مچار رکھتے ہیں
پیہم راہی ؔ

اپنے جذبات میں طوفان کے دھاروں
والے

Leave a comment