اس کی با توں ہی میں رس ایسا لچک ایسی تھی

اس کی با توں ہی میں رس ایسا لچک ایسی تھی

اس کی با توں ہی میں رس ایسا لچک
ایسی تھی

ورنہ آباد بھلا کب یہ سٹرک ایسی
تھی

خود نمائی کا ہنر سب کو کہاں آتا
ہے

 بجھ گیا چاند ستاروں میں چمک ایسی تھی

دفعتا ًراکھ ہوئے جل کے خس وخارِنشاط

کرب و آلام کے شعلوں میں لپک ایسی
تھی

اس کو جینا ہے ابھی اگلی کئی صدیوں
تک

 بات مرحوم کی کل شام تلک ایسی تھی

چین لینے نہ دیا خار آنا نے مجھ کو

ذہن حساّس میں ہر لمحہ کھٹک ایسی
تھی

آدمیت کا گراں بار اٹھاتے کیوں کر

کب علو ہمتی جنّ و ملک ایسی تھی

راہیؔ پر تو ہے مری طبع کی رنگینی
کا

 ورنہ پر نور کہاں بزم فلک ایسی تھی

Leave a comment