الگ تھلگ رکھو گے کب تک خود کو دنیا سے لوگو

Ghazal : Alag thalag rahoge kab tak

الگ تھلگ رکھو گے کب تک خود کو
دنیا سے لوگو

 ذہنوں کی تاریک گپھاؤں سے اب تو باہر نکلو

درد سمیٹو اپنے اپنے ،  اپنا اپنا بین کرو

اپنی اپنی لاشوں کو اپنے کندھوں پہ
لا د چلو

خاموشی کا زہر پیو گے یوں کب تک
تنہا تنہا

مجھ سے چاہے مت بولو ان دیوار و ں سےبات
کرو

ڈھونڈ رہی ہیں آوارہ  روحیں جسموں کے مسکن

اپنے اپنے تابوتوں میں آنکھیں
موندے لیٹ رہو

اشتہار کیوں بانٹ رہے ہو اپنی مریض
سوچوں کے

 اپنی ذات کا کرب ہے اس کو اپنے تک محدود کھو

 

بندھے ہوئے ہیں سبھی مسائل کی
زنجیروں سے راہیؔ

 کون تمہیں اب داد سخن دے اتنی فرصت ہےکس کو

Leave a comment