بکھرا ہے چہرہ چہرہ یہ بے چہرگی کا کرب

Ghazal : Bikhra hai chehra chehra

بکھرا ہے چہرہ چہرہ یہ بے چہرگی کا
کرب

 سانسوں میں گھل گیا ہے ہر اک ذندگی کا کرب

پہنچا بلندیوں پر بھی انسان کے
ساتھ ساتھ

حد فلک کو چھونے لگا آدمی کا کرب

ہر زہن منتشر پہ مسلط ہے ان دنوں

محرومیوں کی تیرگی ہے مائگی کا کرب

گہرائیوں میں ان کی اتر کر تو
دیکھئے

تہہ میں سمندروں کی بھی ہر تشنگی
کا کرب

محسوس کر رہے ہیں سبھی اپنی ذات پر

المیہ اپنے دور کا اپنی صدی کا کرب

بے چین ہے گرانی سے اپنے وجود کی

ہر کوہ سر بلند کو ہے برتری کا کرب

چھایا ہوا ہے راہی ؔفضائے بسیط پر

دنیا ئے ہست و نیست کی بیچارگی کا
کرب

Leave a comment