خشک ہیں یہ سبھی سمندر چل

  

خشک ہیں یہ سبھی سمندر چل

پیاس ہی اپنا ہے مقدر چل

 

روگ مرت آشنائیوں کے بڑھا

چھوڑ آوارگی میاں گھر چل

 

ذرہ ذرہ نہ خود کو ایسے بکھیر

جمع کر اپنے آپ کو گھر چل

 

ہیں حقائق کے مرحلے درپیش

اپنے خوابوں کا باندھ بستر چل

 

پیٹ کے مسئلے بلاتے ہیں

کارخانے، دکان، دفتر چل

 

زندگی راستہ ہے شعلوں کا

دا من عافیت بچا کر چل

 

بھول مت اپنی حیثیت راہیؔ

اپنی قدرا کے اندر چل

Gazhal : Khushk Hain ye sabhi samandar chal


Leave a comment