خیال اخلاص اپنے دل سے نکال پھینکو

Ghazal : Khayal ikhlas apne dil se nikal phenko

خیال اخلاص اپنے دل سے نکال پھینکو

ہر ایک پر اپنی جھوٹی چاہت کے جال
پھینکو

ہیں جتنے لعل و گہر وہ دامن میں
اپنے چن لو

تمام پتھر ہماری جانب اچھال پھینکو

بڑھاؤ کچھ اور سلسلے اپنی وحشتوں
کے

 ہر اک روایت کو کر کے اب پائمال پھینکو

رہے تموج سابحر فکر و سخن میں پیہم

کہ ہر گھڑی اس میں کوئی خشت کہاں
پھینکو

انا کا احساس سرد ہونے لگا ہے مجھ
میں

 مری طرف پھر کوئی سلگتا سوال پھینکو

کہیں تو کوئی نہ کوئی  ثمرِ امید ہوگا

طلب کے پتھر شجر شجر ڈال ڈال
پھینکو

نکل کے دلدل سے پستی ذہن کی اے
راہیؔ

 بلندی فکر پر کمندِ خیال پھینکو

Leave a comment