دھرم بھیجے جائیں گے ایمان بیچے جائیں گے

Ghazal : Dharam beche jayenge imaan beche jayenge

 

دھرم بھیجے جائیں گے ایمان بیچے
جائیں گے

اس مشینی یگ میں تو بھگوان بیچے
جائیں گے

 

مندروں میں اب بکیں گے دید و گیتا
کے شلوک

 مسجدوں میں بیٹھ کر قرآن بیچے جائیں گے

 

دن بدن انسانیت کا بھاؤ گرتا
جائیگا

کوڑیوں کے مول اب انسان بیچے جائیں
گے

 

ساکھ پرکھوں کی حویلی کی بچانے کے
لئے

کھیت بیچے جائیں گے کھلیان بیچے
جائیں گے

 

ڈگریاں ان سب کے جسموں پر سجا دی
جائینگی

گیان کے بازار میں ودوان بیچے
جائیں گے

 

ہے سمے کی منڈیوں کا رنگ کچھ ایسا
کہ اب

 مور کھوں کے ہاتھ بدھی مان بیچے جائیں گے

 

را ہیؔ  کچھ دن بعد ہر حلوائی کی دوکا ن پر

 میری کویتائیں مرے دیوان بیچے جائیں گے

Leave a comment