سرا یا کرب، مجسم غم و ہراس ملا ملا جو شخص مجھے ان دنوں ادا س ملا

سرا یا کرب، مجسم غم و ہراس ملا

ملا جو شخص مجھے ان دنوں ادا س ملا

 

وہ دیکھنے میں جو لگتا تھا جو گیوں
جیسا

چھپائے دل میں دہی شہرتوں کی پیاس
ملا

 

 ہمیشہ میں نے مجھے دور دور تک ڈھونڈا

ہمیشہ میں مجھے خود اپنے آس پاس
ملا

 

شکستگی کو غموں کی چھپائے پھرتا
تھا

دہ آدمی کہ ہمیشہ جو خوش لباس ملا

 

 مدا دا اپنے دکھوں کا کہاں سے ہو
پاتا

جو چارہ گر سبھی ملا درد ناشناس
ملا

ضمیر فرد کی تذلیل جابجا دیکھی

کہیں نہ عظمت انسانیت کا پاس ملا

بر ہنگی مرے افکار کی چھپانے کو

اسے را ہیؔ شعر و سخن کا مجھے لباس
ملا

Leave a comment