سورج بن کر جلنے کی جن سے ہم کو تحریک ملی

Ghazal : Suraj ban kar jalne ki

 

 

سورج بن کر جلنے کی جن سے ہم کو
تحریک ملی

ہر چہرہ نورانی ہر دل کی دنیا
تاریک ملی

 آج وہی گھر نفرت کے شعلوں کی زد میں آیا ہے

 جس کے در سے ساری دنیا کو چاہت کی بھیک ملی

جب جب سمٹا میرا اپنا سایہ مجھ سے
دور ہوا

جب پھیلا تو دور دور کی ہر اک شئے
نزدیک ملی

شہر ہوس  سے دشت ِقناعت میں جب جا کر جوگ لیا

 ہر اک جنسِ تمناّ میرے پاس ملی نزدیک ملی

کل تک جو ساری باتیں گردن زدنی کا
موجب تھیں

آج انہیں پر لوگوں کو تو قیر ملی،
تبریک ملی

دا دود ہش کی سب دولت تقسیم ہو ئی
نا اہوں میں

 ہم جیسوں کو طنز ملے، تحقیر ملی ،تضحیک ملی

انساں کا بے جرم و خطا ہونا ہے
کوئی جرم اگر

راہیؔ مجرم ہے اس کو جو سزا ملی وہ
ٹھیک ملی

Leave a comment