عیش وعشرت کا ہے طالب نہ خوشی مانگے ہے

عیش وعشرت کا ہے طالب نہ خوشی
مانگے ہے

 دل تو ہر لحظہ بس اک چوٹ نئی مانگے ہے

کوئی ملبوس نہ لفظوں کا اسے راس
آیا

 جانے کیا میرے تخیل کی پری مانگے ہے

اس سفر میں نہیں گنجائش ِراحَت
طلبی

شوق تو حوصلہ کوہ کنی مانگے ہے

میرے اندر جو رہا کرتا ہے، اکثر
مجھ سے

 جس کا میں اہل نہیں چیز وہی مانگے ہے

کب سکوں چاہیے ہے اپنا دلِ ہنگامہ
پسند

جب بھی مانگے ہے اک افتاد نئی
مانگے ہے

اک گھٹاٹوٹ کے وادی پہ برسنے والی

اور کیا اس کے سوا خشک ندی مانگے
ہے

را ہیؔ تعریف کے ان کھو کھلے شہروں
کے سوا

آج کچھ اور بھی اُردو کا کوی مانگے ہے

Leave a comment