لفاظوں فقرہ بازوں کا جنگل ہے

لفاظوں فقرہ بازوں کا جنگل ہے

ہر بستی ایک آوازوں کا جنگل ہے

سینہ مدفن ہے لاکھوں افسانوں کا

 دل اپنا صد ہار ازوں کا جنگل ہے

ایک بھیانک سناّٹاہے آٹھ پہر

ہرمحفل ٹوٹے سازوں کا جنگل ہے

اس گھر کو پھر چوروں کا اندیشہ کیا

 جو بوسینا دروازوں کا جنگل ہے

ہم آخر بے بال وپر ٹھہرے راہیؔ

 اور یہ دنیا پروازوں کا جنگل ہے

 

Ghazal : Laffazon fiqrabazon ka jangal hai

 

Leave a comment