محبوب راہی ایک مطالعہ ڈاکٹر امین العامدار

محبوب راہی ایک مطالعہ


ڈاکٹر امین العامدار

محبوب راہی ایک مطالعہ

عرض مرتب


شروعات سے زیر نظر کتاب کی ترتیب و تہذیب اور طباعت و اشاعت تک میرے ادبی سفر کی روا ئداد مختصر بھی اور قدرے طویل بھی۔ مختصر یوں کہ چند تخلیقات رسائل و جرائد میں شائع ہوئیں، کچھ مشاعرے پڑھے ایک شعری مجموعہ منظر عام پر آیا اور بس۔ طویل اس طرح کہ شعر و ادب کے اس تناور درخت کی جڑیں دور دور میرے بچپن تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ پرائمری اسکول میں زیر تعلیم تھا جہاں ہر سنیچر کومنعقدہ محفل بیت بازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتا تھا جس کی یادوں کے دھندلے دھندلے نقوش آج بھی ذہن و دل پر نقش ہیں۔ حافظہ کی تیزی کا وہ عالم کہ دس سال کی عمر میں محلہ کی مسجد میں دوران نماز امام صاحب کی پڑھی ہوئی کئی قرآنی سورتیں محض سن سن کر یاد ہو جاتیں ۔ میری ذہانت کی تیزی نیز والد مرحوم ، والدہ ماجدہ اور دادی جان کے مذہبی رجحانات کا با ہم اشتراک درجہ چہارم کے بعد میری اسکولی تعلیم کے سلسلے کو منقطع کرنے اور محلے کی مسجد میں جاری عربی مدرسے میں مولانا حافظ ظہور احمد افغانی کے زیر تربیت شعبۂ حفظ میں داخل کروانے کا موجب ہوا ۔ میں پارے حفظ ہوئے تھے کہ مولانا موصوف نے احمد نگر کا رخ کیا اور مجھے تکمیل حفظ کے لیے ہور کھیر حافظ حمد یسین کے پاس بھیج دیا گیا۔ دو ماہ گزرنے پر میر داخلہ مدرسہ انوار العلوم کھولا پور میں کروایا گیا جہاں حافظ نذیر احمد خانصاحب کے پاس حفظ مکمل کیا ۔ اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے مولانا حافظ حمایت علی قاسمی ( مرحوم ) اور مولانا شمیم احمد قدوائی کی رہنمائی میں عربی فارسی کی کچھ کتابیں پڑھیں تحصیل علم کا تسلسل دینی تھکن لگا تار چکر آنے ، آنکھوں میں اندھیرا چھا جانے اور کبھی کبھار بیہوش ہو جانے کا سبب ہوا لہذا اساتذہ کرام کے مشفقانہ مشورے سے والد محترم نے یہ مقدس سلسلہ میں منقطع کروا دیا۔


اسکولی تعلیم کے دوران بیت بازی کا شوق دینی مدارس میں بھی برقرار رہا۔ یہاں بھی مذہبی شاعری کے مجموعوں سے روح پرور نظمیں پڑھتا، گنگنا تار بہتا۔ مدرسہ سے واپسی ہوئی تو گھر میں محترم طالب الرحمن طالب یوروی کا پرواز تخیل اور مرحوم شباب اکونوی کا تار گر یہاں دونوں مجموعہ ہائے کلام ہاتھ لگ گئے جن کے وسیلے سے غزلیہ شاعری سے متعارف ہوا۔ علاوہ ازیں پنچا مرحوم کے چند رسائل بھی مطالعہ میں آئے اور میں امین الرحمن سے امین بیوردی کا قلمی نام اختیار کر کے مصرعے موزوں کرنے لگا ۔ پیاس بڑھتی گئی اور میں ادب کے جھرنوں اور تالابوں کی تلاش وجستجو میں جابجا بھٹکنے لگا۔ اطراف واکناف میں جہاں کہیں کسی مشاعرے یا ادبی محفل کا انعقاد عمل میں آتا میں اپنی تشنگی بجھانے کے لیے وہاں پہنچ جاتا۔ ان علاقائی مشاعروں میں جناب راز بالا پوری، مصور کار نجوی فنی اعجاز خلیل فرحت، نایاب اکولوی، فیاض افسوس ، محبوب راہی ، رفیق شاکر، انوار نشتر ، طالب شادانی، مشتاق نقوی، عبدالصمد ذکی وغیرہ شعرائے کلام کے کلام ہائے بلاغت نظام سے فیض یاب ہونے کا شرف مجھے حاصل ہوتا رہا۔ علاوہ ازیں قاضی سعید افسر، حفیظ مومن، ظفر عزیز، اقبال خلش ، اقبال اشہر ( مرحوم ) ، کے ساتھ ادبی محبتوں اور گراں قدر مشوروں سے مستفیض ہونے کے مواقع حاصل ہوتے رہے۔


مشاعرے سنے کے ساتھ ساتھ اخبارات اور رسائل و جرائد میں اشاعت پذیر شعری تخلیقات کے مطالعے کی سعادت بھی نصیب ہوتی رہی۔ مسلسل مشاہدہ اور مطالعے کا راست فیض جہاں میری تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے اور ان میں اضافہ کرنے کا موجب ہوا و ہیں حسب استطاعت مجھے نقد و بصیرت کا بھی کچھ شعور حاصل ہوا جس کی روشنی میں خاص طور سے میں نے دیکھا اور محسوس کیا کہ محبوب راہی صاحب اپنے معیاری اور منفرد لہجے کے کلام کے باوجود محض قلندرانہ بے نیازی کی بناء پر مشاعرے میں انداز پیش کش عوامی سامعین کے مزاج کے مطابق اور موافق نہ ہونے کی وجہ سے مشاعروں کے وسیلے سے وہ شہرت و ناموری اور عوامی مقبولیت حاصل نہیں کر پاتے جس سے مشاعر اور تک بند قسم کے شاعر اپنی جھولیاں بھرتے رہتے ہیں اس کے برعکس ہر معمولی ، غیر معمولی ، معیاری، غیر معیاری ، ادبی فلمی، سیاسی ، مذہبی ، طنزیہ و مزاحیہ ہر مزاج و معیار کے حامل کم و بیش ہر اخبار اور رسالے میں موصوف اپنی رنگارنگ شعری اور نثری تخلیقات کے ساتھ اس کثرت سے شائع ہوتے رہتے ہیں کہ اس معاملے میں ان کی ہمسری علاقے کا کوئی قلم کار تو کجا ہندوستان بھر میں کوئی کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ میں آئے دن مسلسل راہی صاحب کی تخلیقات پڑھتا اور مسرت کے ساتھ ساتھ ان کی زود گوئی اور قادر الکلامی پر بحر حیرت و استعجاب میں غوطے لگاتا رہتا ۔ اکثر جی چاہتا کاش راہی صاحب میرے لیے دور کا جلوہ نہ رہیں ۔ ان سے قربت کا کوئی وسیلہ ہاتھ آئے تا کہ اپنے آپ کو ان سے کامل طور پر فیضیاب کر سکوں ۔ میں نے مشق سخن کے ساتھ تعلیمی سلسلے میں بھی اپنی پیش رفت جاری رکھی اور خانگی طور پر میٹرک اور ہائر میٹرک کے امتحانات امتیازی طور پر کامیاب کر چکا تھا۔ اس میدان میں مزید آگے بڑھنے کی خواہش دل میں تھی اللہ شکر خورے کو شکر کھلاتا

ہے۔ اچانک پتہ چلا کہ باری نا کلی میں ڈگری کالج قائم ہوا ہے جس کے اولین پرنسپل ڈاکٹر محبوب راہتی ہیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں اور یہاں تو آنکھوں کے ساتھ بصارت اور بصیرت کے اسباب بھی کارساز حقیقی نے فراہم کر رکھے تھے محبوب راہی صاحب جنھیں مشاعروں میں دور سے دیکھا اور سنا تھا اب ان سے بالمشافہ گفتگو کی سعادت نصیب ہوگی ۔ کچھ سکھنے کا شرف حاصل ہوگا ۔ باری ناکلی پہنچا۔ راہی صاحب اخبارات ورسائل اور شاعروں کے وسیلے سے مجھ سے واقف تھے۔ نہایت شفقت سے ملے اور کالج میں داخلہ کروالیا۔ اور وہیں سے گریجویشن امتیازی حیثیت سے کامیاب کیا۔ اس دوران مختلف علمی مسائل پر رہنمائی کے علاوہ گاہے گاہے اپنی شعری تخلیقات پر بھی راستی صاحب کے مشوروں سے اکتساب فیض کرتا رہا۔ با قاعدہ زانوئے تلمند بھلے ہی تہ نہ کیا ہوتا ہم استادی شاگردی کا مقدس رشتہ برسوں کا ہو یا لمحاتی میرے نزدیک بہت اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت علی کما
قول ہے۔

میں اس کا غلام ہوں جس نے مجھے ایک حرف سکھایا اگر وہ چاہے مجھے بیچ ڈالے۔ چاہے تو آزاد

کر دے یا غلام رکھے
” ایک شاعر نے کہا ہے :

رايتُ أَحَقُّ الحَقَّ حَقَّ المُعلّم

وَ أَو جَبَه حَفِظَا عَلَى كُلِّ مُسلِم لَقَد حَقَّ أَن يُهدَى إِلَيْتِهِ كَرامَتهُ لتعليم حَرفٍ وَاحِدٍ أَلف درهم

( سب سے بڑا حق تو معلم کا ہے جس کی رعایت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ واقعی وہ شخص جس نے تم کو ایک لفظ سکھایا اس کا مستحق ہے کہ ہزار درھم اس کے لیے ہدیہ کیے جائیں بلکہ اس کے احسان کے مقابلے میں تو ہزار درہم کی بھی کوئی حیثیت نہیں ) اس اعتبار سے میرے اساتذہ کرام کی طویل فہرست میں ڈاکٹر محبوب راہی کو بھی ایک مقام امتیاز حاصل ہے کہ میں نے موصوف کی ذات سے بہت کچھ سیکھا ہے اور آج میں جو کچھ بھی ہوں خدا کے فضل اور اپنے جن کرم فرماؤں کی دعاؤں اور معاونت کی وجہ سے ہوں ان میں راہی صاحب بھی شامل ہیں ۔ یہی بات اس کتاب کی ترتیب و تدوین اور طباعت و اشاعت میں میرے لیے محترک ثابت ہوئی ۔ تو میں تعلیمی اور ادبی میدانوں میں اپنی پیش رفت کے تعلق سے عرض کر رہا تھا۔ عربی کا مقولہ ہے۔ ” من طلب شيئاً وَ جدو جد” 44

جو شخص کسی چیز کا طالب ہے اور اس کے لیے کوشش بھی کرے تو اپنی کوشش کے مطابق اسکو ضرور پالے گا۔ )

امام شافعی فرماتے ہیں :

الجـدیـدنی کل امر شاسع والجد يفتح كل باب مغلق (انسان کوشش کے بعد ہر مشکل کام کو انجام دے لیتا ہے جس طرح بند دروازہ کوشش کے بعد کھل جاتا ہے)

ایک شاعر کہتا ہے :

تمينيت ان تمسى فقيها مناظراً وليس اكتساب المال دون مشقة

بغير عنا والجنون فسنون تحملها فالعلمه كيف يكون خش بات

ر ادبی کا

کی ہے۔

ت نہیں تمہاری خواہش اگر ہے کہ اخیر تکلیف اور مشقت کے عالم فاضل بن جاؤ تو یہ پاگل پن اور جنون ہے کیونکہ جب مال و دولت کا حصول بغیر مشقت برداشت کیے نہیں ہوتا تو پھر علم جو اس سے بدر جہا بلند ہے اس کا حصول بلا

مشقت کے کیسے ہو سکتا ہے۔)

ایک بزرگ کا مقولہ ہے :

العلم لا يعطيك بعضة حتى تعطه كلك علم تم کو اپنا ایک حصہ بھی نہیں دے سکتا جب تک کہ پورے طور پر اپنے کو اس کے حوالہ نہ کر دو ۔ )

شیخ الاسلام انصاری فرماتے ہیں :

سفی کلا

داری

شوق

ہو۔

ول

تقبہ

قال

هذا اشان شان من ليس له شان سوى هذا اشان

( یعنی طلب علم ان جواں مردوں کا کام ہے جن کا مقصود بالذات یہی کام ہو ) لہذا گر یجویشن کے بعد میں نے ناگپور یونیورسٹی سے ۱۹۹۷ء میں ایم اے کیا اور اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹرمحمدسمیع اللہ ڈین فیکلٹی آف آرٹس امراوتی یونیورسٹی کی نگرانی میں مہاراشٹر میں اردو شاعری ( آزادی کے بعد ) اس موضوع پر پی ایچ ڈی کی اعلی وارفع تعلیمی سند حاصل کی۔ ساتھ ہی ساتھ رسائل و جرائد میں غزلیات مضامین اور تبصرے بھی مسلسل شائع ہوتے رہے جنھیں یکجا کر کے مہاراشٹر اردو اکادمی کی جزوی مالی اعانت سے شعری مجموعہ اساس ۱۹۹۷ء میں منظر عام پر آیا۔ جس میں ڈاکٹر منشاء الرحمن منشاء، انجم رومانی، عبدالرحیم نشتر ، مدحت الاختر، نذیر فتحپوری، حبیب ہاشمی اور ڈاکٹر آغا غیاث الرحمن جیسے مشاہیر ارباب قلم کی گرانقدر آراء شامل ہیں۔ مشاعروں میں شرکت بھی ہوتی رہی۔ قریب و دور کے مشاعروں میں مسلسل ملاقاتوں کے وسیلہ سے مرحوم انجم جبلپوری، ہوش نعمانی ، حبیب ہاشمی اور منور رانا جیسے مشاہیر سے پر خلوص تعلقات استوار ہوئے۔

اس کتاب کی ترتیب و تشکیل میں میرے ذہن و دل میں جو محترم محبوب راہی کے تئیں بے پناہ جذبہ عقیدت کی کارفرمائی کا عمل دخل ہے یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ محض کو رانہ عقیدت نہیں کہ جس کے زیر اثر میں مبالغہ آرائی کے سہارے معمولی کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنے کی سعی نا کام کر رہا ہوں ۔ راہی صاحب کی شخصیت اور فن کی مختلف جہتوں پر رسائل وجرائد میں شائع ہونے والے چند مضامین کے علاوہ رسالہ اسباق پونہ کے وقیع گوشہ محبوب راہی کی دور دور تک مختلف الجہات ادبی کارناموں کو سمیٹ کر پیش کرنے کی کوشش ضرور کی گئی تاہم میرے خیال سے موصوف کی زندگی شخصیت اور فن کا مکمل احاطہ اب بھی نہیں ہو پایا ہے۔ اس خیال کے تحت میں نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے۔ اسباق میں شامل مضامین میں سے چند کی

ت کا

الشمولیت کے علاوہ میں نے ملک بھر کے صف اول کے ارباب قلم کو راہی صاحب پر کچھ لکھنے کے لیے درجنوں مخطوط لکھے۔ بے شمارا اخبارات ورسائل میں اس تعلق سے مراسلات شائع کروائے جن کے مثبت نتائج ملک کے طول و عرض سے موصول ہونے والے مقالات اور تاثرات کی صورت میں پر آمد ہوئے جن سے راہی صاحب کی وسیع تر ادبی حلقوں میں رسائی نیز مقبولیت اور محبوبیت کا اندازہ ہوا۔ اپنی کم مائیگی کے باوجود خاکسار نے تو اپنی سی کوشش کی ہے تاہم میں اس بیکن رو بے بسیط موضوع کی تکمیلیت کا دھوئی نہیں کر سکتا کہ بقول محترم وارث علوی : آپ نے نثر اعظم میں اتنا لکھا ہے کہ اس سے انصاف مضمون نہیں بلکہ ڈاکثریت کا مقالہ ہی کر سکتا ہے۔”

دراصل میری یہ کاوش میرے اس دیرینہ خواب کے شرمندہ تعبیر کرنے کی اولین کوشش ہے جو میں اپنے علاقے کے ان فنکاروں کی ادبی خدمات کو مکمل طور سے منظر عام پر لانے کے سلسلے میں دیکھتا رہا ہوں جو وسائل ترسیل و ابلاغ کے فقدان، اپنی بے استطاعتی یا بے نیاز انہ استغناوغیرہ کی وجہ سے یا تو گوشتہ گمنامی میں رہ گئے یا جن کا اس طرح اعتراف نہیں ہو پایا جسطرح انکی اعلیٰ وارفع معیاری اور وسیع تر ادبی خدمات کے تناظر میں ہونا لازمی تھا ۔ اس سلسلے میں انجمن یادرفتگاں نے ۱۹۸۲ء میں تذکرہ مشاہیر برار جلد اول اور گزشتہ سال یعنی ۲۰۰۵ء میں جلد دوم منظر عام پر لا کر دونوں میں علاقہ برار کی زائد از سوایسی شخصیتوں پر مضامین یکجا کر کے شائع کئے ہیں۔ جو اپنی زندگی میں شعر و ادب ، سیاست، مذہب تعلیم و تدریس یا سماجیات وغیرہ میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دے کر دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں جن کی وسیع اور ارفع تر خدمات کا احاطہ مختصر مضمون میں نہیں ہو سکتا جو ایک مکمل اور ضخیم کتاب کا مطالبہ کرتی ہیں۔ میری کوشش ہو گی کہ ان میں سے چند بزرگوں پر اپنی بساط بھر مزید چند مطبوعات منظر عام پر لاؤں ۔ ساتھ ہی یہ خواہش بھی ہوگی کہ علاقے کی صاحب حیثیت شخصیتیں یا ادارے بھی اس سلسلے میں پیش قدمی کریں فصیح اللہ نقیب اکولوی ، جناب غنی اعجاز کولوی پر ایک کتاب غنی اعجاز اک شخص اک شاعر مرتب اور شائع کر کے اس کارخیر کا آغاز چند برس بیشتر قبل کر چکے ہیں۔ محبوب راہی ایک مطالعہ کو اس سلسلے کی دوسری کڑی اور اپنے آپ میں کسی حد تک مکمل کاوش سمجھنا چاہیے۔ امید ہے میری یہ پیش کش او بی حلقوں میں شرف قبولیت حاصل کرے گی ساتھ ہی اس سلسلے میں پیش رفت کرنے والوں کے لیے مشعل راہ بھی ثابت

ہوگی۔

ڈاکٹر امین انعامدار 
شعبہ اردو، آرٹس کا مرس کالج
 یودا ضلع امراوتی

Leave a comment