میں خود اپنے آپ کو کرلوں تلاش

میں خود اپنے آپ کو کرلوں تلاش 
 اتنی تو مہلت دے اے فکر معاش

اے جہان عافیت ہشیار باش 
آدمی کرنے چلا ہے سروناش

چیختے ہیں اب بھی ماضی کے کھنڈر
 با ادب٫ جنبش مکن، ہشیار باش

اب وہاں رستا ہوا ناسور ہے 
تھی جو دل پر غم کی ہلکی سی خراش

راونوں کے شہرمیں ہے سود ہے 
رام، سیتا اور لچھمن کی تلاش

عصر نو تشکیک کے گرداب میں
 کس قدر مایوس ہے کتنا نراش

راہی پیہم تیشہ افکار ہے
 نو بہ نو تخیل کے پیکر تراش


 

Leave a comment