پیچھے تاریکی ، آگے سناٹا ہے سریہ آگ اگلتا سورج لٹکا ہے

پیچھے تاریکی ، آگے سناٹا ہے

سریہ آگ اگلتا سورج لٹکا ہے

بس اتنا ہی سمجھو جتنا سمجھا ہے

لوٹ چلو کہ آگے پانی گہرا ہے

آج کو اپنے قابو سے مت جانے دو

کل کی چھوڑ و کل کو کس نے دیکھا ہو

اس کے ہر جائی پن کی کچھ مت پوچھو

یہ دنیا تو میاں بڑی حراّفہ ہے

ذہن میں جو بھی کچھ ہےسب ہے اوروں کا

 دل میں لیکن جو ہے میرا اپنا ہے

اپنی کمیں گاہوں سے باہر مت نکلو

باہر کوئی گھات لگائے بیٹھا ہے

اپنے ہی گھر میں اس کی پہچان نہیں

را ہی ؔ جودنیا میں شہرت رکھتا ہے

Leave a comment