کرب تشکیک، غم ذات لئے پھرتے ہیں

Ghazal : karb tashkik

کرب تشکیک، غم ذات لئے پھرتے ہیں

عصر حاضر کی علامات لئے پھرتے ہیں

درد و سوزش غم و آفات لئے پھرتے
ہیں

وقت نے دی ہے جو سوغات لئے پھرتے
ہیں

تم جو چا ہو تو انہیں زیست کا
عنواں دے لو

ہم جو بکھرے ہوئے لحات لئے پھرتے
ہیں

کو بہ کو قریہ بہ قریہ کبھی صحرا
صحرا

لمحہ لمحہ مجھے حالات لئے پھرتے
ہیں

پھونک دیں گے کبھی اپنا خس و خاشاکِ
وجود

ہم جو یہ شعلہ جذبات لئے پھرتے ہیں

برگی آوارہ کی مانند مجھے اے راہیؔ

میرے شوریدہ خیالات لئے پھرتے ہیں

Leave a comment