کوئی لے کر چراغ رہ گذر آئے نہ آئے

کوئی لے کر چراغ رہ گذر آئے نہ آئے

چلو کہ سمیت منزل بھی نظر آئے نہ آئے

خداحافظ چلو اب ڈوبتے سورج کو کہہ دیں

 کہ یہ دیوار شب پھر پھاند کر آئے نہ آئے

ہمارے کان محروم سماعت ہو چکے ہیں

بلا سے اب صدائے معتبر آئے نہ آئے

اسے محفوظ کر لونسل آئندہ کی خاطر

کہ پھر یہ فصل بے برگ وثمر آئے نہ آئے

غنیمت ہے مجھے ذہن رسا کی رہ نمائی

 مرے ہمراہ کوئی راہ برآئے نہ آئے

نہیں غالب شناسوں کو ستائش کی تمناّ

 ہمارے نام کچھ توہنرآئے نہ آئے

سفر درپیش ہے بے سمت راہوں کا اے راہیؔ

 خدا حافظ کہ اب تیری خبر آئے نہ آئے

Leave a comment