گاؤں کے پنگھٹ سے ہو کر جب ہوائیں آئیں گی

گاؤں کے پنگھٹ سے ہو کر جب ہوائیں آئیں گی

گاؤں کے پنگھٹ سے ہو کر جب ہوائیں آئیں گی

جھا نجھروں کی میرے کانوں میں
صدائیں آئیں گی

 

شہر کی ہنگامہ خیزی سے جو اوب اٹھے
گا جی

 یاد گاؤں کی سکوں پر در فضا ئیں آئیں گی

خیر و شر کی اور ہوں گی معرکہ
آرائیاں

اور دنیا میں بہت سی کر بلائیں
آئیں گی

ایک دن میرا بھی ہو گا خوش لباسوں
میں شمار

جسم پر میرے بھی شہرت کی قبائیں
آئیں گی

سچ کی عریانی چھپانے کے لئے ہر سمت
سے

 جھوٹ کی رنگین چمکیلی ردائیں آئیں گی

شیشہ الفاظ سے جھلکے گا ہر عکس
خیال

 جیسا ہو گا جسم دیسی ہی قبائیں آئیں گی

جس طرف بھی جائیں گے راہیؔ ہمارے سامنے

دیکھی بھائی جانی پہچانی دشائینں آئیں
گی

Leave a comment