گناہ بزدلی سے پاک تھا وہ نڈر تھا وہ بہت بیباک تھا وہ

خلیل الرحمن اعظمی کی نذر ))

 گناہ بزدلی سے پاک تھا وہ

نڈر تھا وہ بہت بیباک تھا وہ

اران اس کی تھی حد بیکراں تک

بظاہر ایک مشت خاک تھا وہ

فقیری میں انا کا تھا وہ عالم

کہ جیسے صاحب الملاک تھا وہ

زمیں پر آگیا تھا اتفاقاً

متابع مخیر ہفت افلاک تھا وہ

 

شکستہ ہو چکا تھا اس کا پیکر

تبھی تو ایسا خوش پوشاک تھا وہ

خود اپنے آپ کو کھا یا مسلسل

 خود اپنے درد کی خوراک تھا وہ

 

جو ظاہر تھا وہی باطن تھا اسکا

ریا سے راہی ؔیکسر پاک تھا وہ

Leave a comment