ہر لمحہ بدلتے چہروں کو کس طرح بھلا پہچانو گے

 

ہر لمحہ بدلتے چہروں کو کس طرح بھلا پہچانو گے
ہر لمحہ بدلتے چہروں کو کس طرح بھلا پہچانو گے

ہر لمحہ بدلتے چہروں کو کس طرح
بھلا پہچانو گے

 کتنوں کی نقابیں الٹو گے کس کس کی حقیقت جانو گے

 

آنکھوں کے طلسمی آئینے ہر چیز اجا
گر کر دیں گے

 وہ راز جو سینے میں ہو گا ، وہ بات جو دل میں
ٹھانو گے

 

ہر شخص ہو کا پیاسا ہے، ہر شخص لگے
ہے فریادی

مظلوم کسے ٹھہراؤ گے کسی کو قاتل
گردانو گے

 

حالات کی وسعت اب یار و ملبوس نیا
اک مانگے ہے

رسموں کی پرانی چادر کو اب اور
کہاں تک تانو گے

 

بے ذوق نظر کیا پاؤ گے بے مول خزف
ریزوں کے سوا

اسے راہیؔ ادب کے صحرا کی یوں خاک
کہا ںتک چھانو گے

 

Leave a comment