ہے کتاب زندگی کا ہر سبق

ہے کتاب زندگی کا ہر سبق

 جس قدر آسان اتناہی ادق

 آئینے چہروں کے گرد آلود ہیں

 دیکھئے کیا ان میں جذبوں کی رمق

ظلمتوں میں غرق تھا میرا وجود

مجھ پہ روشن تھے مگر چودہ طبق

 ایک مہمل سی عبارت بن گئی

زندگی جو تھی کبھی سادہ ورق

کون چہروں کی یہ تحریریں پڑھے

 گنجلک،  پیچیدہ ، مہمل اور ادق

بات ہاں خیرات کی کچھ اور ہے

 ورنہ مانگے سے ملا ہے کس کو حق

کیا کتاب زیست اب ترتیب دیں

 منتشر ہے راہی ؔجس کا ہر ورق

1 thought on “ہے کتاب زندگی کا ہر سبق”

Leave a comment