یوں نہ بستی بستی اور گھر گھر تلاش

Ghazal : youn na basti basti

یوں نہ بستی بستی اور گھر گھر تلاش

خود کو اپنے جسم کے اندر تلاش

کہہ اٹھے جس کو زمانہ بھر، تلاش

ایسا کوئی دل نشیں پیکر تلاش

پہلے اپنی آنکھ کا شہتیر دیکھ

 پھر ہماری آنکھ میں کنکر تلاش

مل نہ پایا لمحہ گم گشتہ پھر

آخرش بے سود ٹھہری ہر تلاش

میرے ہاتھوں میں تو شیشہ بھی نہیں

 لوگ کیوں کرنے لگے پھر تلاش

عمر بھر وہ مجھ میں پوشیدہ رہا

میں جسے کرتا رہا اکثر تلاش

جب اسے ذہن رسا پر ہے یقیں

کیوں کرے راہیؔ کوئی ر ہبر تلاش

Leave a comment