Sabaat || Ghazal || Dr Mahboob Rahi || ثبات || غزلیات || ڈاکٹر محبوب راہیؔ ||

ثبات

Table of Contents

 

اپنے منہ

میں نہیں جانتا کہ
میری یہ اولین کاوش ارباب نقد و نظر میں کس حد تک پذیرائی حاصل کر سکے گی ۔ اس
تعلق سے نہ تو کسی خوش فہمی میں مبتلا ہوں اور نہ ہی احساس کمتری کا شکاراپنی نسبت
کچھ عرض کر دینا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ ان نامساعد اور ناگفتہ بہ حالات کی
روشنی میں (جن سے میں گذر چکا ہوں اور گزر رہا ہوں ) میری شاعری کے بارے میں برائے
قائم کرنے میں دشواری نہ ہو ۔

میری سات پشتوں
میں شعر کہنا تو کجا شاید ہی کسی نے کوئی مصرعہ سمجھنے کی بھی سعادت حاصل کی ہو ۔
گویا اس بدعت کی مرتکب میری اپنی ذات واحد گھری میرے خاندان کی معاشی اور تعلیمی
پسماندگی کا وہ عالم کہ میرا صرف ایک پرائمری مدرس بن جانا گویا تمام خاندان کے
لئے باعث فخر و مباہات اور سات پشتوں کا نام روشن کرنے کا موجب گردانا گیا ۔ ایسے
غیر شاعرانہ ماحول اور ایسے بخبر اور ریتیلے (ادبی اعتبار سے ) علاقے میں کہ حد
نگاہ تک شعر و ادب کا کوئی نخلستان دکھائی نہ دے۔ نہ وہ اسباب و عوامل دستیاب که
جو ذہن دنگاہ کو جلا بخشتے ہیں اور نہ وہ محفلیں اور محبتیں میسر جو افکار و نظر
کی زرخیزی اور شادابی کے لئے ضروری ہوتی ہیں
خودرے سے اندازہ ان ادوار کو شادی کے جرایم بھی میں بار ہو کرسرایت کر گئے
میرا لا ابالی پن کہہ لیجئے یا ماحول کی پستیوں سے ابھار کر اپنے آپ کو نمایاںکرنے
کا جذ بہ کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی سے بے تکان اور بے لگام لکھے جا رہا ہوں اور
ہندوستان کے مختلف معیار و مزاج کے حامل تقریبا تمام درسائل و جرائد میں مسلسل چھپ
رہا ہوں ۔

کی اپنے ذوق مطالعہ رات سے خود کو واز کن طب را کواپنا رہبر کے حضور زانوئے
فکر ادب نہ کرنے کی محروم کر رکھا ہے ۔

احباب کا اصرانہ اور مہاراشٹر اردو کا دمی کا التفات و تعاون کہ اپنے ذہنی
سکری اثاثہ کا مختصر ساحصہ ثبات کی صورت میں منظر عام پر لانے کا شرف آج مجھے حاصل
ہو سکا ہے ورنہ ہمیں کیا اور میری بساط کیا۔

___________________________________________

اثبات

ڈاکٹر مظفر حنفی

یہ بات میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں لیکن کلمہ حق کا اعادہ
بری بات نہیں اس لئے ایک بار پھر کہوں گا کہ نئی شاعری میں بیشتر ناقدین نے ابلاغ
و ابہام کو باہم متضاد اور متخالف اصطلاحوں کی حیثیت سے برت کر قاری اور نا پختہ
ذہن کے فنکاروں میں ایسا کنفیوژن پیدا کر دیا ہے جسے دور کرنے کی سنجیدہ کوششیں
اگر جلد شروع نہ کر دی گئیں تو شاید ازالے کی کوئی صورت باقی نہ رہ جائیگی اور
قافیہ پیمائی کے ساتھ اہاں شامل کر کے غیر شاعر یا معمولی درجے کے شاعر عظیم اور
عصر سازہ کیے جاتے رہیں گے ۔ بات اگر مہمل گو قافیہ پیماؤں کو دیو قامت نیز کار
سمجھ لینے تک ہی محدود رہتی تو بھی چشم پوشی برتی جاسکتی تھی لیکن ہو یہ رہا ہے کہ
ہر قسم کی گروپ بندی سے بے نیانہ تخلیقی کاموں میں مگن رہنے والے اچھے اور نیچے
فنکاروں کو ناقدین اس جرم پر لائق اعتنا نہیں سمجھتے کہ ان کے شعروں میں ابہام بات
کو نئے مفہوم نہیں بناتا بلکہ ابلاغ کی حدوں کو وسیع کرتا ہے۔ اور مفاہیم کے نئے
پہلو ایجاد کرتا ہے۔ یہ عمل پہلے ان سیاست دانوں نے اختیار کیا جو نقاد کا کوٹھا
پہن کر ادبی دنیا میں گھس آئے ہیں لیکن ہمارے کچھ بہت ذہین اور مخلص نئے نقادوں نے
بھی ابہام اور اجمال نیز ابلاغ اور توضیح کے فرق کو نظر انداز کر کے مہمل گویوں کو
ذاتی تعلقات اور خوشامد سے متاثر ہو کر عظمت اور عصر سازی کے القاب باٹھنے شروع کر
دیئے ہیں اور یہ روش سچی شاعری کے لئے سم قاتل ثابت ہو رہی ہے کیونکہ ایسے مصلحت
آمیز فیصلوں

ے تار ہونے کے واوں کی کپور کی پر اس کے اما پرست بن جان
کا نور

لئے کیا ہے کہ وہ بھی لکھنے والوں کی اس جدید ترنسل سے
تعلق رکھتے ہیں جو پچھلی دہائی کے بطن سے برآمد ہوئی ہے۔ اس نسل کے سامنے جو نئے
شعری معیارات تھے وہ تار ے آس پاس ادبی جنم لینے والے جدید شاعروں کی افہام و
تفہیم کے وسیلے سے وجود میں آئے تھے۔ ان میں ترسیل کی ناکامی کا جواز پیدا کرنے کی
ہر سہولیت فراہم کی گئی تھی عہد نو کی پیچیدہ نفسیات اور کھتے ہوئے مسائل کو گنجلک
انداز بیان اور ژولیدگی کے ساتھ پیش کرنے کی اتنی زیادہ گنجائش رکھی گئی تھی کہ
شاعر اور نا شاعر کی شناخت مٹ جائے ۔ ایک مصرع تر کے لئے سیروں ہو صرف کرنے والے
شاعروں کو الفاظ کے گورکھ دھندے سے شعر بنانے کی تن آسانیاں اس حد تک مہیا کر دی
گئیں کہ تخلیقی سوتوں کی روانی میں فرق آگیا اور پھر وہی ناقدین جنہوں نے مذکورہ
بالا شعری معیارات نئی نس کے لئے فراہم کئے تھے ۔ جدید ترنسل کی یکسانی بے صلاحیتی
اور سلمی جدیدیت کے محلہ مند نظر آنے لگے ۔ عرض یہ کرنا ہے کہ اس جدید ترنسل کے
لئے جو اللہ کے آس پاس ابھری شاہ کے زائیدہ جدید فن کاروں کے مقابلے میں اپنی
انفرادیت کو کے لئے کے ابھارنے کے لئے زیادہ خلاقی ، زیادہ ریاض اور زیادہ صلاحیت
کی ضرورت تھی۔ اس لئے اس نسل میں من کا روں کی وہ بھیڑ بھاڑ نہیں جو جدیدیت کے
رجحان کو فرنا دینے والے ابتدائی برسوں میں تھی ۔ محبوب راہی اس لحاظ سے اس جدید
ترنس میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں کہ وہ اپنا لہجہ اور اپنی آواز رکھتے ہیں ۔ ایک
ایسا لہجہ اور ایک ایسی آواز جو اپنے پیش روؤں کے پہنچے یا آوازہ کی بازگشت نہیں
ہے ۔ جو اپنی رینیت ایمائیت اور اشاریت کے باوجود با مفہوم اور بلیغ ہے ۔ ان کے
شعروں کے

میں توضیحی انداز نہیں ہے تو ا سماں بھی نہیں ہے ۔ وہ
ابہام سے بات میں نئی نئی پرتیں پیدا کرتے ہیں ، اس کی طلسمی کیفیت میں اضافہ کرتے
ہیں ، تاثیر کو دوبالا کرتے ہیں یعنی ابہام ان کے شعر کی وسعت میں اضافہ کرتا ہے
اسے محدود نہیں بناتا۔ میرا خیال ہے اس اعتبار سے محبوب راہی اپنے ہم عصروں میں سے
زیادہ نمایاں ہیں ۔ اس کی ایک وجہ میرے خیال میں یہ ہو کہ وہ بڑے شہروں اور ادبی
مراکز سے دور ایک ایسے قصبے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں دوسروں کی عینک سے دیکھنے
اور دوسروں کے دماغ سے سوچنے کی بجائے اپنی کھلی آنکھوں کو استعمال کرنے اور اپنے
ذہن کو کشادہ رکھنے کے زیادہ مواقع

دستیاب ہیں ۔ محبوب راہی کا دوسرا بڑا وصف یہ ہے کہ وہ
جدید ترنسل سے متعلق ہونے کے با وصف اپنی شعری روایت سے یکسر غیر متعلق نہیں ہیں ۔
میرا خیال ہے رد کرنے کی منزل قبول کرنے کے بعد آتی ہے اور تجربے کا حق استفادے کے
بعد حاصل ہوتا ہے خصوصا اردو غزل میں روایت سے مکمل انقطاع کا مطلب ہی تخلیقی موت

ہے ۔ یہاں روایت آئینے کے ان ٹکڑوں کی طرح ہے جن کے حصار
میں خیال کی رنگینیوں سے مزین چوڑیوں کے ٹکڑے الفاظ کی شکل میں رکھ دینے سے
خوبصورت نقش بن جاتا ہے اور تجربات و احساسات، زمانہ و ماحول کی تبدیلی سے یہ نقش
نئے خوبصورت تر نقوش میں تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔ چنانچہ محبوب راہی اس رمز سے واقف
نظر آتے ہیں۔ وہ نئی بات کہتے ہیں کہ ان کے پاس کہنے کے لئے باتیں

ہیں ۔ دھنئے انداز میں کہتے ہیں کہ انہیں کہنے کا سلیقہ
ہے اور واقعی نیا شعر

کہتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے پرانا کیا ہے ۔ محبوب راہی
کو ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں ۔ ان کی شخصیت میں کردار کی وہ

پختگی، وہ گداز وہ لچک، وہ خلوص اور وہ بے لوثی موجود ہے
جس کے بغیر اچھی غزل کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ بارسی ٹاکلی جیسے ادبی لحاظ سے
بنجر علاقے میں رہتے ہوئے جدید غزل کہنا کتنا دشوار ہے ۔ اُسے میں بخوبی سمجھ سکتا
ہوں کہ سیہور جیسے غیرادبی مقامات میں مدتوں رہا ہوں ۔ محبوب راہی کسی ادبی گروپ
سے وابستہ نہیں ہیں اس لئے ممکن ہے اپنا صحیح مقام ومرتبہ حاصل کرنے کے لئے دوسروں
سے زیادہ جد و جہد کرنی پڑے لیکن ” ثبات کی غزلیں کہتی ہیں اور میں اپنے
تجربے کی روشنی میں اس کی توثیق کرتا ہوں کہ اس خود اعتمادی کے ساتھ سخن شناسوں کے
سکوت اور ناقدین کی بے نیازی کے باوجود مسلسل تخلیق میں لگن رہنا ثبات فن کی دلیل
ہے ۔ مجھے یقین ہے محبوب راہی کا تخلیقی سفر انہیں خوب سے خوب تر کی جستجو میں
مستغرق رکھے گا ۔

 1924 ار نومبر ۹۷ شعبہ اردو، جامعہ
ملیہ اسلامیہ نئی دہلی
۲۵

مظفر حنفی

https://drmahboobrahi.blogspot.com/2023/06/httpsdrmahboobrahi.blogspot.com202306blog-post17.htmlm1.html

میں خود اپنے آپ کو کرلوں تلاش

 اتنی تو مہلت دے اے فکر معاش

اے جہان عافیت ہشیار باش

آدمی کرنے چلا ہے سروناش

چیختے ہیں اب بھی ماضی کے کھنڈر

با ادب جنبش مکن ، ہشیار باش

اب وہاں برستا ہوانا سو رہے

تھی جو دل پر غم کی ہلکی سی خراش

را دلوں کے شہر میں بے سود ہے

 رام، سیتا اور لچھمن کی تلاش

عصر نو تشکیک کے گرداب میں

کس قدر مایوس ہے کتنا نراش

راہی سہم تیشہ افکار ہے

نو بہ نو تخیل کے پیکر تراش

Sabaat

کیا کوئی
گنج گراں مایہ چھپا ہے مجھ میں

کھوجنے
والے تو کیا کھوج رہا ہے مجھ میں

میرا میں
سرحد ادراک کو چھونے کیلئے

 قرنها قرن سے پر تول رہا ہے مجھ میں

میں تو
خاموش ہوں حالات کی سفاکی پر

 را جانے پھر کون ہے جو چیخ رہا ہے مجھ میں

جس سے ہو
پائی نہ تا حال شناسائی مری

 لوگ کہتے ہیں کہ اک ذہن رسا ہے مجھ میں

پھر مسائل
کے یزید آئے ہیں بیعت لینے

گرم پھر
معرکہ کرب و بلا ہے مجھ میں

دوستو !
مجھ کو کھنگالوگے کہاں تک آخر

ما سوا کرب
بھلا دوسرا کیا ہے مجھ میں

نہ کوئی
درد نہ احساس نہ جذبہ نہ امنگ

 یہ بھی راہی کوئی جینے کی ادا ہے مجھ میں

Sabaat

 

خشک ہیں یہ
سبھی سمندر چل کر

پیاس ہی
اپنا ہے مقدر چل

 

روگ مرت
آشنائیوں کے بڑھا

چھوڑ
آوارگی میاں گھر چل

 

ذرہ ذرہ نہ
خود کو ایسے بکھیر

جمع کر
اپنے آپ کو گھر چل

 

ہیں حقائق
کے مرحلے درپیش

اپنے
خوابوں کا باندھ بستر چل

 

پیٹ کے
مسئلے بلاتے ہیں

 کارخانے، دکان، دفتر چل

 

زندگی
راستہ ہے شعلوں کا

دا من
عافیت بچا کر چل

 

بھول مت
اپنی حیثیت راہی

اپنی قدرا
کے اندر چل

 

Sabaat

 

دھوپوں میں غم ذات کی جھلسایا ہوا  سا

ہر پیکر احساس ہے مرجھایا ہوا  سا

ہو ہر شخص ہے تشکیک کے آسیب کے
ہاتھوں

سہما ہوا  ، سمٹا  ہوا  ،  گھبرایا  ہو ا سا

ہر ذہن جو فردوس تخیل تھا کسی دن

 لگتا ہے جہنم کوئی دہکایا ہوا سا

صدیوں سے میں جینے کی سزا کاٹ رہا
ہوں

سانسوں کی صلیبوں  پہ ہوں لٹکایا ہوا  سا

ہر شخص ہے بے مہرئی حالات سے ہر دم

روٹھا ہوا ،بپھرا ہوا ، جھلایا ہوا

صحرائوں میں نفرت کے بھٹکتا ہوں
مسلسل

دو گھونٹ کو چاہت کے ہوں ترسایا
ہوا سا

کیا پائے گا پھر وسعت افکار کہ
راہیؔ

روٹی کے جھمیلوں میں ہی الجھایا
ہوا سا

 

Sabaat

 

شہر میں اک مرد وحشت آشنا

ڈھونڈتا ہے کوئی صورت آشنا

کھونہ اپنی بات کا ناحق بھرم

کون ہے کس کا مصیبت آشنا

سنتے ہیں وہ بھی منافق ہو گیا

تھا ابھی تک جو صداقت آشنا

اجنبی لگتا ہے جس کو دیکھئے

 یوں تو ہے ہر ایک صورت آشنا

مجھ سے وابستہ ہر ہر کرب حیات

میں ازل سے ہوں اذیت آشنا

کھردرے لفظوں سر زخمی ہوگئی

کہ تھی زباں اپنی فصاحت آشنا

کون ہے گمنام راہی ؔ کی طرح

 کون ہے اس جیسا شہرت آشنا

 

 

دھرم بھیجے جائیں گے ایمان بیچے
جائیں گے

اس مشینی یگ میں تو بھگوان بیچے
جائیں گے

مندروں میں اب بکیں گے دید و گیتا
کے شلوک

 مسجدوں میں بیٹھ کر قرآن بیچے جائیں گے

دن بدن انسانیت کا بھاؤ گرتا
جائیگا

کوڑیوں کے مول اب انسان بیچے جائیں
گے

ساکھ پرکھوں کی حویلی کی بچانے کے
لئے

کھیت بیچے جائیں گے کھلیان بیچے
جائیں گے

ڈگریاں ان سب کے جسموں پر سجا دی
جائینگی

گیان کے بازار میں ودوان بیچے
جائیں گے

ہے سمے کی منڈیوں کا رنگ کچھ ایسا
کہ اب

 مور کھوں کے ہاتھ بدھی مان بیچے جائیں گے

را ہیؔ  کچھ دن بعد ہر حلوائی کی دوکا ن پر

 میری کویتائیں مرے دیوان بیچے جائیں گے

Sabaat

 

حیات اک رہگزر منزل به منزل

مہیب و پر خطر منزل به منزل

جہاں بھر پر مسلط ہو چکا ہے

غمِ شام و سحر منزل به منزل

لئے پھرتی ہے مجھ کو بے سکونی

 بهر سو ،  در بدر منزل به منزل

حوادث سو به سو منظر به منظر

مراحل سخت تر منزل به منزل

مجھے بھٹکائے گی آخر کہاں تک

بساط کم نظر منزل به منزل

دھواں گھر گھر سے یہ اٹھتا ہو سا

سلگتے بام و در منزل به منزل

مرے در پیش ہے ہر سمت راہیؔ

 ره دشوارتر منزل به منزل

Sabaat

 

لفاظوں فقرہ بازوں کا جنگل ہے

ہر بستی ایک آوازوں کا جنگل ہے

سینہ مدفن ہے لاکھوں افسانوں کا

 دل اپنا صد ہار ازوں کا جنگل ہے

ایک بھیانک سناّٹاہے آٹھ پہر

ہرمحفل ٹوٹے سازوں کا جنگل ہے

اس گھر کو پھر چوروں کا اندیشہ کیا

 جو بوسینا دروازوں کا جنگل ہے

ہم آخر بے بال وپر ٹھہرے راہیؔ

 

 

 اور یہ دنیا پروازوں کا جنگل ہے

 

Sabaat

 

سورج بن کر جلنے کی جن سے ہم کو
تحریک ملی

ہر چہرہ نورانی ہر دل کی دنیا
تاریک ملی

 

 آج وہی گھر نفرت کے شعلوں کی زد میں آیا ہے

 جس کے در سے ساری دنیا کو چاہت کی بھیک ملی

جب جب سمٹا میرا اپنا سایہ مجھ سے
دور ہوا

جب پھیلا تو دور دور کی ہر اک شئے
نزدیک ملی

شہر ہوس  سے دشت ِقناعت میں جب جا کر جوگ لیا

 ہر اک جنسِ تمناّ میرے پاس ملی نزدیک ملی

کل تک جو ساری باتیں گردن زدنی کا
موجب تھیں

آج انہیں پر لوگوں کو تو قیر ملی،
تبریک ملی

دا دود ہش کی سب دولت تقسیم ہو ئی
نا اہوں میں

 ہم جیسوں کو طنز ملے، تحقیر ملی ،تضحیک ملی

انساں کا بے جرم و خطا ہونا ہے
کوئی جرم اگر

راہیؔ مجرم ہے اس کو جو سزا ملی وہ
ٹھیک ملی

 

 

 

یوں نہ بستی بستی اور گھر گھر تلاش

خود کو اپنے جسم کے اندر تلاش

کہہ اٹھے جس کو زمانہ بھر، تلاش

ایسا کوئی دل نشیں پیکر تلاش

پہلے اپنی آنکھ کا شہتیر دیکھ

 پھر ہماری آنکھ میں کنکر تلاش

مل نہ پایا لمحہ گم گشتہ پھر

آخرش بے سود ٹھہری ہر تلاش

میرے ہاتھوں میں تو شیشہ بھی نہیں

 لوگ کیوں کرنے لگے پھر تلاش

عمر بھر وہ مجھ میں پوشیدہ رہا

میں جسے کرتا رہا اکثر تلاش

جب اسے ذہن رسا پر ہے یقیں

کیوں کرے راہیؔ کوئی ر ہبر تلاش

کرب تشکیک، غم ذات لئے پھرتے ہیں

عصر حاضر کی علامات لئے پھرتے ہیں

درد و سوزش غم و آفات لئے پھرتے
ہیں

وقت نے دی ہے جو سوغات لئے پھرتے
ہیں

تم جو چا ہو تو انہیں زیست کا
عنواں دے لو

ہم جو بکھرے ہوئے لحات لئے پھرتے
ہیں

کو بہ کو قریہ بہ قریہ کبھی صحرا
صحرا

لمحہ لمحہ مجھے حالات لئے پھرتے
ہیں

پھونک دیں گے کبھی اپنا خس و خاشاکِ
وجود

ہم جو یہ شعلہ جذبات لئے پھرتے ہیں

برگی آوارہ کی مانند مجھے اے راہیؔ

میرے شوریدہ خیالات لئے پھرتے ہیں

 

آپ جو امن و اخوّت کے پیمبر ٹھہرے

کس کو قاتل کہیں پھر کون ستمگر
ٹھہرے

کور چشموں کو حقیقت بھی نظر آئے
صراب

چشم بینا کو تو قطرہ بھی سمندر
ٹھہرے

میں نے پھولوں سے عقیدت کے سجایا
تھا اسے

تم مری یاد کے آنگن میں نہ پل بھر
ٹھہرے

ہم نے جس آنکھ کو بخشا تھا بصیرت
کا شعور

 ہم اسی آنکھ میں چبھتے ہوئے کنکر ٹھہرے

تم پہ جذبوں کی حرارت کا اثر ہو کیوں
کر

 تم جو احساس کی دہلیزکے پتھرٹھہر ے

کسی طرح عیش کا ماحول ہمیں راس آئے

فطر تاًہم جو غم و درد کے خوگر
ٹھہرے

راستوں کے کبھی پتھر جو کہے جاتے
تھے

منزلِ وقت کے راہیؔ وہی رہبر ٹھہرے

اب بنا مکر وریا کی وہاں ڈالی جائے

 رسم اخلاص جہاں بھی ہو اٹھالی جائے

کس کا دکھ بانٹئے کس کس کو سہارا دیجے

سب دکھی ہیں یہاں کس کس کی دعالی
جائے

پھر کیا جائے روایات جنوں کو زندہ

 خاک پھر دشت و بیاباں کی اڑالی جائے

پھر جو لٹتی ہے تو لٹ جائے متاعِ
ہستی

 یہ جو اخلاص کی پونجی ہے بچالی جائے

دکھ کے صحراؤں پہ برسا کے عزائم کی
گھٹا

فصل ایک عیش و مسرت کی اگائی جائے

اک بصیرت کے سوا پاس ہمارےکیا ہے

تہمت بے بصری کیسے اٹھالی جائے

کون جذبوں کا ہے مفہوم سمجھنے والا

ناشناسوں سے کہاں داد و فالی جائے

 

الگ تھلگ رکھو گے کب تک خود کو
دنیا سے لوگو

 ذہنوں کی تاریک گپھاؤں سے اب تو باہر نکلو

درد سمیٹو اپنے اپنے ،  اپنا اپنا بین کرو

اپنی اپنی لاشوں کو اپنے کندھوں پہ
لا د چلو

خاموشی کا زہر پیو گے یوں کب تک
تنہا تنہا

مجھ سے چاہے مت بولو ان دیوار و ں
سےبات کرو

ڈھونڈ رہی ہیں آوارہ  روحیں جسموں کے مسکن

اپنے اپنے تابوتوں میں آنکھیں
موندے لیٹ رہو

اشتہار کیوں بانٹ رہے ہو اپنی مریض
سوچوں کے

 اپنی ذات کا کرب ہے اس کو اپنے تک محدود کھو

بندھے ہوئے ہیں سبھی مسائل کی
زنجیروں سے راہیؔ

 کون تمہیں اب داد سخن دے اتنی فرصت ہےکس کو

 

 


عیش وعشرت کا ہے طالب نہ خوشی
مانگے ہے

 دل تو ہر لحظہ بس اک چوٹ نئی مانگے ہے

کوئی ملبوس نہ لفظوں کا اسے راس
آیا

 جانے کیا میرے تخیل کی پری مانگے ہے

اس سفر میں نہیں گنجائش ِراحَت
طلبی

شوق تو حوصلہ کوہ کنی مانگے ہے

میرے اندر جو رہا کرتا ہے، اکثر
مجھ سے

 جس کا میں اہل نہیں چیز وہی مانگے ہے

کب سکوں چاہیے ہے اپنا دلِ ہنگامہ
پسند

جب بھی مانگے ہے اک افتاد نئی
مانگے ہے

اک گھٹاٹوٹ کے وادی پہ برسنے والی

اور کیا اس کے سوا خشک ندی مانگے
ہے

را ہیؔ تعریف کے ان کھو کھلے شہروں
کے سوا

آج کچھ اور بھی اُردو کا کوی مانگے
ہے

 

بکھرا ہے چہرہ چہرہ یہ بے چہرگی کا
کرب

 سانسوں میں گھل گیا ہے ہر اک ذندگی کا کرب

پہنچا بلندیوں پر بھی انسان کے
ساتھ ساتھ

حد فلک کو چھونے لگا آدمی کا کرب

ہر زہن منتشر پہ مسلط ہے ان دنوں

محرومیوں کی تیرگی ہے مائگی کا کرب

گہرائیوں میں ان کی اتر کر تو
دیکھئے

تہہ میں سمندروں کی بھی ہر تشنگی
کا کرب

محسوس کر رہے ہیں سبھی اپنی ذات پر

المیہ اپنے دور کا اپنی صدی کا کرب

بے چین ہے گرانی سے اپنے وجود کی

ہر کوہ سر بلند کو ہے برتری کا کرب

چھایا ہوا ہے راہی ؔفضائے بسیط پر

دنیا ئے ہست و نیست کی بیچارگی کا
کرب

 

خیال اخلاص اپنے دل سے نکال پھینکو

ہر ایک پر اپنی جھوٹی چاہت کے جال
پھینکو

ہیں جتنے لعل و گہر وہ دامن میں
اپنے چن لو

تمام پتھر ہماری جانب اچھال پھینکو

بڑھاؤ کچھ اور سلسلے اپنی وحشتوں
کے

 ہر اک روایت کو کر کے اب پائمال پھینکو

رہے تموج سابحر فکر و سخن میں پیہم

کہ ہر گھڑی اس میں کوئی خشت کہاں
پھینکو

انا کا احساس سرد ہونے لگا ہے مجھ
میں

 مری طرف پھر کوئی سلگتا سوال پھینکو

کہیں تو کوئی نہ کوئی  ثمرِ امید ہوگا

طلب کے پتھر شجر شجر ڈال ڈال
پھینکو

نکل کے دلدل سے پستی ذہن کی اے
راہیؔ

 بلندی فکر پر کمندِ خیال پھینکو

 

 

 اس کی با توں ہی میں رس ایسا لچک
ایسی تھی

ورنہ آباد بھلا کب یہ سٹرک ایسی
تھی

خود نمائی کا ہنر سب کو کہاں آتا
ہے

 بجھ گیا چاند ستاروں میں چمک ایسی تھی

دفعتا ًراکھ ہوئے جل کے خس وخارِنشاط

کرب و آلام کے شعلوں میں لپک ایسی
تھی

اس کو جینا ہے ابھی اگلی کئی صدیوں
تک

 بات مرحوم کی کل شام تلک ایسی تھی

چین لینے نہ دیا خار آنا نے مجھ کو

ذہن حساّس میں ہر لمحہ کھٹک ایسی
تھی

آدمیت کا گراں بار اٹھاتے کیوں کر

کب علو ہمتی جنّ و ملک ایسی تھی

راہیؔ پر تو ہے مری طبع کی رنگینی
کا

 ورنہ پر نور کہاں بزم فلک ایسی تھی

 

 

 

گاؤں کے پنگھٹ سے ہو کر جب ہوائیں
آئیں گی

جھا نجھروں کی میرے کانوں میں
صدائیں آئیں گی

 

شہر کی ہنگامہ خیزی سے جو اوب اٹھے
گا جی

 یاد گاؤں کی سکوں پر در فضا ئیں آئیں گی

خیر و شر کی اور ہوں گی معرکہ
آرائیاں

اور دنیا میں بہت سی کر بلائیں
آئیں گی

ایک دن میرا بھی ہو گا خوش لباسوں
میں شمار

جسم پر میرے بھی شہرت کی قبائیں
آئیں گی

سچ کی عریانی چھپانے کے لئے ہر سمت
سے

 جھوٹ کی رنگین چمکیلی ردائیں آئیں گی

شیشہ الفاظ سے جھلکے گا ہر عکس
خیال

 جیسا ہو گا جسم دیسی ہی قبائیں آئیں گی

جس طرف بھی جائیں گے راہیؔ ہمارے سامنے

دیکھی بھائی جانی پہچانی دشائینں آئیں
گی

 

اب نظر آتے ہیں اشجار وہ خاروں
والے

تھے مرے سامنے منظر جو چناروں والے

بات اقدار وفا کی جو کہیں چھڑتی ہے

یاد آتے ہیں بہت لوگ مزاروں والے

لے اڑیں درد کی بے سمت ہوا ئیں ان
کو

 وہ جو موسم تھے مسرت کی پھواروں والے

غنچہ وگل کی لطافت تھی بحث کا
عنواں

 لفظ تھے آگ کے لہجے تھے شراروں والے

اب تو میلوں ہمیں سایوں کو ترسنا
ہو گا

 پیٹر سب سوکھ گئے راہگزاروں والے

ان کو بھی وقت نے مفلوج بنا رکھا
ہے

 تھے جو کچھ ہاتھ زمانے میں سہاروں والے

دل میں ہلچل سی مچار رکھتے ہیں
پیہم راہی ؔ

اپنے جذبات میں طوفان کے دھاروں
والے

 

خلیل الرحمن اعظمی کی نذر ))

 گناہ بزدلی سے پاک تھا وہ

نڈر تھا وہ بہت بیباک تھا وہ

اران اس کی تھی حد بیکراں تک

بظاہر ایک مشت خاک تھا وہ

فقیری میں انا کا تھا وہ عالم

کہ جیسے صاحب الملاک تھا وہ

زمیں پر آگیا تھا اتفاقاً

متابع مخیر ہفت افلاک تھا وہ

 

شکستہ ہو چکا تھا اس کا پیکر

تبھی تو ایسا خوش پوشاک تھا وہ

خود اپنے آپ کو کھا یا مسلسل

 خود اپنے درد کی خوراک تھا وہ

 

جو ظاہر تھا وہی باطن تھا اسکا

ریا سے راہی ؔیکسر پاک تھا وہ

سرا یا کرب، مجسم غم و ہراس ملا

ملا جو شخص مجھے ان دنوں ادا س ملا

 

وہ دیکھنے میں جو لگتا تھا جو گیوں
جیسا

چھپائے دل میں دہی شہرتوں کی پیاس
ملا

 

 ہمیشہ میں نے مجھے دور دور تک ڈھونڈا

ہمیشہ میں مجھے خود اپنے آس پاس
ملا

 

شکستگی کو غموں کی چھپائے پھرتا
تھا

دہ آدمی کہ ہمیشہ جو خوش لباس ملا

 

مدا دا اپنے دکھوں کا کہاں سے ہو
پاتا

جو چارہ گر سبھی ملا درد ناشناس
ملا

ضمیر فرد کی تذلیل جابجا دیکھی

کہیں نہ عظمت انسانیت کا پاس ملا

بر ہنگی مرے افکار کی چھپانے کو

اسے را ہیؔ شعر و سخن کا مجھے لباس
ملا

پیچھے تاریکی ، آگے سناٹا ہے

سریہ آگ اگلتا سورج لٹکا ہے

بس اتنا ہی سمجھو جتنا سمجھا ہے

لوٹ چلو کہ آگے پانی گہرا ہے

آج کو اپنے قابو سے مت جانے دو

کل کی چھوڑ و کل کو کس نے دیکھا ہو

اس کے ہر جائی پن کی کچھ مت پوچھو

یہ دنیا تو میاں بڑی حراّفہ ہے

ذہن میں جو بھی کچھ ہےسب ہے اوروں کا

 دل میں لیکن جو ہے میرا اپنا ہے

اپنی کمیں گاہوں سے باہر مت نکلو

باہر کوئی گھات لگائے بیٹھا ہے

اپنے ہی گھر میں اس کی پہچان نہیں

را ہی ؔ جودنیا میں شہرت رکھتا ہے

Leave a comment