Mahboob Rahi | Ghazal | 13 | کرب کی تیرہ فضاؤں سے نکل آئے ہیں

Mahboob Rahi | Ghazal | 13 |

Mahboob Rahi | Ghazal | 13 | کرب کی تیرہ فضاؤں سے نکل آئے ہیں
Mahboob Rahi | Ghazal | 13 | کرب کی تیرہ فضاؤں سے نکل آئے ہیں

کرب کی تیرہ فضاؤں سے نکل آئے ہیں
ہم خیالوں کی گھاںؤں سے نکل آئے ہیں

بھوک کا مرض کہ ہیضہ کی طرح پھیلا ہے
لوگ گھر چھوڑ کے گاؤں سے نکل آئے ہیں

بے لباسی اسے کہتا ہے زمانہ تو کہے
ہم نمائش کی قباؤں سے نکل آئے ہیں

ذات بے ننگ میں محصور ہوئے بیٹھے ہیں
ہم کہ شہرت کی فضاؤں سے نکل آئے ہیں

اب ہواؤں میں وجود ان کا بکھر جائیگا
چند قطرے جو گھٹاؤں سےنکل آئے ہیں

اب عطا ہو گا شرف ان کو پذیرائی کا
آج ہم تیری دعاؤں سے نکل آئے ہیں

آگئی کام مسائل کی جراحت راہیؔ
خار وحشت مرے پاؤں سے نکل آئے ہیں

Leave a comment