Mahboob Rahi|Gazal14|

Mahboob Rahi

Mahboob Rahi|Gazal14|

نالۂکرب تھا، مضراب طرب تھا ، کیا تھا
کوئی بتلائے کہ میں کون تھا کب تھا ، کیا تھا

یہ خموشی ، یہ تکلف، یہ تغافل کیا ہے
وہ تکلّم، وہ نبسّتم، وہ جو سب تھا ، کیا تھا

میں نہ سمجھا کہ زمانے کیلئے میرا وجود
موجب غم تھا ، مسرت کا سبب تھا ، کیا تھا

دفعتاً نیند جس آواز سے ٹوٹی تھی مری
روُح چیخی تھی مری ، نالۂ شب تھا ، کیا تھا

آگ نفرت کی کچھ ایسی تھی کہ ہرشخص وہاں
سربسر آئینہ غیض و غضب تھا ، کیا تھا

شہر بھر میں ہدفِ سنگ ِملامت جو رہا
وہ بھی کیا مجھ ساہی بے نام و نسب تھا، کیا تھا

جو مرا ہمدمِ تنہائی رہا ہے راہیؔ
اک مرا مشغلۂ شعر و ادب تھا ، کیا تھا

Leave a comment